29 جنوری 2012 - 20:30

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سابقہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے ساتھ پاکستانی حکام کے تعاون پر مبنی امریکی وزیر جنگ کے بیانات کی مذمت کی ہے۔

ابنا: رحمان ملک نے نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران امریکی وزیر جنگ کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوۓ ان بیانات کو ایسی حکومت اور ملت پر واشنگٹن کی عدم اعتمادی کی علامت قرار دیا جو ہمیشہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھی ہے اور جس نے ہمیشہ دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔

رحمان ملک نے مزید کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی اس وقت اسلام آباد میں قید ہے اور اسے پاکستان کے ساتھ وفاداری کرتے ہوۓ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاع پاکستانی حکام کو دینا چاہۓ تھی لیکن اس نے اس کی اطلاع امریکہ اور سی آئی اے کو فراہم کی۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر جنگ نے حال ہی میں دعوی کیا ہے کہ امریکہ نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر حملے کی اطلاع پاکستانی حکام کو اس لۓ نہیں دی تھی کہ واشنگٹن کو یہ تشویش تھی کہ اطلاع کی صورت میں پاکستان کی حکومت اسامہ بن لادن کے وہاں سے بھاگنے میں مدد فراہم کرے گی۔........

/169